کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: حسنِ اخلاق کا بیان - اس وضاحت کا ذکر کہ لوگوں کو جنت میں داخل کرنے والی بڑی وجوہات میں تقویٰ اور حسنِ اخلاق شامل ہیں۔
حدیث نمبر: 476
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْكَرْخِيُّ ، بِبَلَدِ الْمَوْصِلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ الْجَنَّةَ ؟ قَالَ : " تَقْوَى اللَّهِ ، وَحُسْنُ الْخُلُقِ " قِيلَ : فَمَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ النَّارَ ؟ قَالَ : " الأَجْوَفَانِ : الْفَمُ وَالْفَرْجُ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : ابْنُ إِدْرِيسَ هَذَا اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزَّعَافِرِيُّ الأَوْدِيُّ مِنْ ثِقَاتِ الْكُوفَةِ وَمُتْقِنِيهِمْ ، وَلَمْ يَكُنْ فِي عَصْرِهِ بِالْكُوفَةِ مَنْ لا يَشْرَبُ غَيْرُهُ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا۔ کون سی چیز ایسی ہے، جس کی وجہ سے زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اور اچھے اخلاق عرض کی گئی: کون سی چیز ایسی ہے، جو زیادہ لوگوں کو جہنم میں داخل کرے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سوراخ والی دو چیزیں منہ اور شرم گاہ ۔“
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: (ابن ادریس نامی راوی عبداللہ بن ادریس بن یزید بن عبدالرحمن زعافری اودی ہے یہ کوفہ کے رہنے والے ثقہ اور متقن افراد میں سے ایک ہے اس کے زمانے میں کوفہ میں اس کے علاوہ اور کوئی شخص ایسا نہیں تھا، جو یہ مشرب نہ رکھتا ہو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 476
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «التعليق الرغيب» (3/ 256). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط ابن إدريس: هو عبد الله بن إدريس بن يزيد بن عبد الرحمن الأودي، وجده يزيد وثقه المؤلف والعجلي، وروى عنه جماعة، وباقي رجاله ثقات، فالسند حسن.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 476»