کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: حسنِ اخلاق کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اچھی بات کو کھجور کے درخت اور بری بات کو کڑوے بیری (حنظل) سے تشبیہ دی۔
حدیث نمبر: 475
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أُتِيَ بِقِنَاعِ جَزْءٍ ، فقَالَ : مَثَلا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا سورة إبراهيم آية 25 - 25 ، فقَالَ : " هِيَ النَّخْلَةُ " ، وَمَثلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةٍ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الأَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ سورة إبراهيم آية 26 قَالَ : " هِيَ الْحَنْظَلَةُ " قَالَ شُعَيْبٌ : فَأَخْبَرْتُ بِذَلِكَ أَبَا الْعَالِيَةِ ، فقَالَ : كَذَلِكَ كُنَّا نَسْمَعُ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُ أَنَسٍ إِنَّهُ أُتِيَ بِقِنَاعِ جَزْءٍ أَرَادَ بِهِ طَبَقَ رُطَبٍ لأَنَّ أَهْلَ الْمَدِينَةِ يُسَمُّونَ الطَّبَقَ الْقِنَاعَ ، وَالرُّطَبَ الْجَزْءَ .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجوروں کا ایک تھال پیش کیا گیا، تو آپ نے یہ آیت پڑھی: ” پاکیزہ کلمے کی مثال پاکیزہ درخت کی مانند ہے، جس کی بنیاد مضبوط ہوتی ہے اور اس کی شاخیں بلند ہوتی ہیں۔ وہ ہر موسم میں اپنے پروردگار کے حکم کے مطابق پھل دیتا ہے ۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد کھجور کا درخت ہے (پھر آپ نے یہ آیت پڑھی) ” بری بات کی مثال برے درخت کی طرح ہے، جسے زمین کے اوپر سے اکھاڑ لیا جاتا ہے اور اسے قرار نہیں ہوتا ۔“ آپ نے ارشاد فرمایا: اس سے مراد حنظلہ ہے۔ شعیب نامی کہتے ہیں: میں نے یہ بات ابوالعالیہ کو بتائی، تو انہوں نے فرمایا: ہم نے بھی اسی طرح سنی ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے یہ الفاظ ” وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں قناع جزء لے کر آئے “ اس سے مراد کھجوروں کا تھال ہے، کیونکہ اہل مدینہ تھال کے لئے لفظ ” قناع “ استعمال کرتے ہیں، اور کھجوروں کے لئے لفظ جزء استعمال کرتے ہیں۔