کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: حسنِ اخلاق کا بیان - اس بات کا ذکر کہ زمانے کے لوگوں کے ساتھ نرمی و تدبیر سے پیش آنے پر اللہ تعالیٰ صدقہ کا ثواب لکھتا ہے، بشرطیکہ اس میں کوئی ناجائز بات شامل نہ ہو۔
حدیث نمبر: 471
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ فِي آخَرِينَ قَالُوا : حَدَّثَنَا الْمُسَيِّبُ بْنُ وَاضِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ أَسْبَاطٍ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مُدَارَاةُ النَّاسِ صَدَقَةٌ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الْمُدَارَاةُ الَّتِي تَكُونُ صَدَقَةً لِلْمُدَارِي هِيَ تَخَلُّقُ الإِنْسَانِ الأَشْيَاءَ الْمُسْتَحْسَنَةَ ، مَعَ مَنْ يُدْفَعُ إِلَى عِشْرَتِهِ ، مَا لَمْ يَشُبْهَا بِمَعْصِيَةِ اللَّهِ وَالْمُدَاهَنَةُ : هِيَ اسْتِعْمَالُ الْمَرْءِ الْخِصَالَ الَّتِي تُسْتَحْسَنُ مِنْهُ فِي الْعِشْرَةِ وَقَدْ يَشُوبُهَا مَا يَكْرَهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” لوگوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا صدقہ ہے ۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) وہ مدارات، جو مدارات کرنے والے شخص کے لئے صدقہ ہوتی ہیں اس سے مراد یہ ہے: آدمی مستحسن اشیاء کو اپنے اخلاق کا حصہ بنائے۔ نیز اس کے ہمراہ اپنی ذات سے اس چیز کو پرے رکھے جس میںاللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا امکان ہو سکتا ہے۔ جبکہ مداہنت سے مراد آدمی کا ان خصائل کو اختیار کرنا ہے، جو لوگوں کے ساتھ تعلق میں مستحسن سمجھے جاتے ہیں، اور ان میں ایسی چیز بھی شامل ہوتی ہے، جسےاللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 471
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «الضعيفة» (4508). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف، المسيب بن واضح: قال أبو حاتم: صدوق يخطىء كثيراً، فإذا قيل له لم يقبل. وقال ابن عدي في «الكامل» 6/ 2383 - 2385 - بعد أن ساق له عدة أحاديث تستنكر ليس هذا منها -: والمسيب بن واضح له حديث كثير عن شيوخه، وعامة ما خالف فيه الناس هو ما ذكرته لا يتعمده، بل كان يشبه عليه، وهو لا بأس به. وقد قال الدارقطني فيه «ضعيف» في أماكن من «سننه». ويوسف بن أسباط وثقه يحيى بن معين، وقال أبو حاتم: لا يحتج به، وقال البخاري: كان قد دفن كتبه، فكان لا يجيء بحديثه كما ينبغي، وقال ابن عدي في «الكامل» 7/ 2616: هو عندي من أهل الصدق، إلا أنه لما عدم كتبه كان يحمل على حفظه فيغلط، ويشتبه عليه، ولا يتعمد الكذب. وقال ابن حبان في «الثقات» 7/ 638: مستقيم الحديث ربما أخطأ، من خيار أهل زمانه، من عباد أهل الشام وقرائهم. وباقي رجاله ثقات.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 471»