کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: صلہ رحمی اور قطع رحمی کا بیان - اس بات کا ذکر کہ عورت کے لیے اپنے مشرک رشتہ داروں سے تعلق جوڑنے کی اجازت ہے اگر ان کے اسلام لانے کی امید ہو۔
حدیث نمبر: 452
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ ، تَقُولُ : قَدِمَتْ أُمِّي مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ فِي هُدْنَةِ قُرَيْشٍ ، وَهِيَ مُشْرِكَةٌ ، فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنَّ أُمِّي أَتَتْ رَاغِبَةً . أَفَأَصِلُهَا ؟ فقَالَ لَهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَعَمْ صِلِيهَا " .
سیده اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں: میری والدہ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ آئی۔ یہ قریش کے ساتھ صلح کے زمانے کی بات ہے۔ وہ خاتون مشرک تھیں۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میری والدہ میرے پاس اُمید لے کر آئی ہیں، تو کیا میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے فرمایا: جی ہاں! تم ان کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 452
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1468): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن، محمد بن وهب بن أبي كريمة: روى له النسائي، وهو صدوق، وباقي رجاله ثقات على شرط مسلم. أبو عبد الرحيم: هو خالد بن أبي يزيد بن سماك الحراني.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 453»