کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: صلہ رحمی اور قطع رحمی کا بیان - اس خبر کا ذکر جو ان لوگوں کے قول کو باطل کرتی ہے جنہوں نے کہا کہ یہ روایت صرف دراوردی نے بیان کی ہے۔
حدیث نمبر: 451
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلا ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي قَرَابَةً أَصِلُهُمْ ، وَيَقْطَعُونِي ، وَأُحْسِنُ إِلَيْهِمْ وَيُسِيئُونَ إِلَيَّ ، وَأَحْلُمُ عَنْهُمْ وَيَجْهَلُونَ عَلَيَّ ، فقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَئِنْ كَانَ كَمَا تَقُولُ ، لَكَأَنَّمَا تُسِفُّهُمُ الْمَلَّ ، وَلا يَزَالُ مَعَكَ مِنَ اللَّهِ ظُهَيْرٌ ، مَا دُمْتَ عَلَى ذَلِكَ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے کچھ رشتے دار ہیں، جن کے ساتھ میں صلہ رحمی کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ قطع رحمی کرتے ہیں۔ میں ان کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں۔ میں ان کے ساتھ بردباری سے پیش آتا ہوں اور وہ میرے خلاف جہالت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر صورت حال ویسی ہی ہے جیسی تم بیان کر رہے ہو، تو گویا کہ تم ان پر راکھ چھڑکتے ہو اوراللہ تعالیٰ کی مدد تمہاری شامل حال رہے گی۔ جب تک تم اس طرح کرتے رہو گے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 451
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، بندار هو محمد بن بشار، ومحمد هو ابن جعفر غندر.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 452»