کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: صلہ رحمی اور قطع رحمی کا بیان - اس وضاحت کا ذکر کہ اولاد کے ساتھ حسنِ سلوک کے ذریعے آگ سے نجات اور جنت میں داخلے کی امید کی جا سکتی ہے۔
حدیث نمبر: 448
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، أَنَّ زِيَادَ بْنَ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى ابْنِ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَهُ عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : جَاءَتْنِي مِسْكِينَةٌ تَحْمِلُ ابْنَتَيْنِ لَهَا ، فَأَطْعَمْتُهَا ثَلاثَ تَمَرَاتٍ ، فَأَعْطَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا تَمْرَةً ، وَرَفَعَتْ إِلَى فِيهَا تَمْرَةً لِتَأْكُلَهَا ، فَاسْتَطْعَمَتَاهَا ابْنَتَاهَا ، فَشَقَّتِ التَّمْرَةَ الَّتِي كَانَتْ تُرِيدُ أَنْ تَأْكُلَهَا بَيْنَهُمَا فَأَعْجَبَنِي حَنَانُهَا ، فَذَكَرْتُ الَّذِي صَنَعَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَوْجَبَ لَهَا الْجَنَّةَ ، وَأَعْتَقَهَا بِهَا مِنَ النَّارِ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک غریب عورت اپنی دو بیٹیوں کو اٹھا کر لائی میں نے اسے کھانے کے لئے تین کھجوریں دیں۔ اس نے دونوں بیٹیوں میں سے ہر ایک کو ایک کھجور دی اور ایک کھجور اپنے منہ کی طرف بڑھائی تاکہ اسے کھا لے، تو ان دونوں بچیوں نے وہ مانگ لی۔ اس نے اس کھجور کے دو ٹکڑے کئے جسے وہ خود کھانا چاہتی تھی اور اسے ان دونوں میں تقسیم کر دیا۔ مجھے اس کی یہ مہربانی بہت اچھی لگی۔ میں نے اس کے اس طرز عمل کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا:اللہ تعالیٰ نے اس عورت کے لئے جنت کو واجب کر دیا ہے اور اس وجہ سے اسے جہنم سے آزاد کر دیا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 448
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق على ابن ماجه» (2/ 390): م أتَّم منه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، إن ثبت سماع عراك بن مالك من عائشة، ففي "المراسيل"ص 162، و «جامع التحصيل» ص 288 عن الإمام أحمد أنه لم يسمع منها، وقال العلائي بعد أن أورد هذا الخبر من "صحيح" مسلم عن عراك، عن عائشة: والظاهر أن ذلك على قاعدته المعروفة، أي: في الاكتفاء بالمعاصرة التي يمكن معها السماع في الرواية بالعنعة دون ملاقاة الراوي لمن عنعن عنه. وفي «سير أعلام النبلاء» 5/ 63، 64 قال الذهبي في ترجمة عراك بن مالك: وروى عن عائشة، فقيل: لم يسمع منها. وباقي رجاله ثقات رجال الشيخين غير زياد فهو من رجال مسلم. ابن الهاد: هو يزيد بن عبد الله بن أسامة.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 449»