کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: صلہ رحمی اور قطع رحمی کا بیان - اس شخص کی صفت کا ذکر جس پر «واصل» (رشتہ جوڑنے والا) کا اطلاق ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 445
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ فِطْرٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الرَّحِمُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ ، وَلَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ ، وَلَكِنَّ الْوَاصِلَ الَّذِي إِذَا انْقَطَعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا " .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” رحم، عرش کے ساتھ لٹکا ہوا ہے اور بدلے کے طور پر اچھائی کرنے والا صلہ رحمی کرنے والا شمار نہیں ہوتا۔ صلہ رحمی کرنے والا شخص وہ ہوتا ہے کہ جب اس کی رشتہ داری کے حقوق کو پامال کیا جائے، تو وہ پھر بھی صلہ رحمی کرے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 445
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «غاية المرام» (ص 230). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري غير فِطْر - وهو ابن خليفة - فقد روى له البخاري مقروناً، وهو ثقة.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 446»