کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: صلہ رحمی اور قطع رحمی کا بیان - اس بات کا ذکر کہ رحم نے اللہ جل وعلا کے سامنے اپنے کاٹنے والوں اور برا سلوک کرنے والوں کی شکایت کی۔
حدیث نمبر: 442
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الرَّحِمُ شِجْنَةٌ مِنَ الرَّحْمَنِ ، مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ ، تَقُولُ : يَا رَبِّ ، إِنِّي قُطِعْتُ ، إِنِّي أُسِيءَ إِلَيَّ ، فَيُجِيبُهَا رَبُّهَا : " أَمَا تَرْضَيْنَ أَنْ أَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ ، وَأَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” لفظ رحم رحمان سے ماخوذ ہے۔ یہ عرش کے ساتھ لٹکا ہوا ہے اور عرض کرتا ہے: اے میرے پروردگار! مجھے قطع کر دیا گیا۔ میرے ساتھ برائی کی گئی، تو اس کے پروردگار نے اسے فرمایا ہے: کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ جو تمہیں قطع کر دے میں اسے قطع کر دوں اور جو تمہیں ملا کر رکھے میں اسے ملاؤں ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 442
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «التعليق الرغيب» (3/ 226)، «غاية المرام» (ص 231). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن، وهو حديث صحيح، محمد بن عبد الجبار، نقل ابن أبي حاتم في "الجرح والتعديل" 8/ 15 عن أبيه قوله: شيخ، وباقي رجاله ثقات على شرط الشيخين.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 443»