کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: صلہ رحمی اور قطع رحمی کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جب رحم کو پیدا کیا گیا تو اس نے اللہ جل وعلا سے قطع رحمی سے پناہ مانگی اور اللہ نے خبر دی کہ وہ اسے جوڑنے والے سے تعلق جوڑے گا اور کاٹنے والے سے تعلق کاٹ دے گا۔
حدیث نمبر: 441
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي مُزَرِّدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمِّي سَعِيدَ بْنَ يَسَارٍ أَبَا الْحُبَابِ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ الرَّحِمَ ، حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْ خَلْقِهِ ، قَامَتِ الرَّحِمُ ، فَقَالَتْ : هَذَا مَقَامُ الْعَائِذِينَ مِنَ الْقَطِيعَةِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ أَلا تَرْضَيْنَ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ ، وَأَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ ؟ " ، قَالَتْ : بَلَى ، قَالَ : " فَهُوَ لَكِ " ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ : فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الأَرْضِ ، وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ ، أُولَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَى أَبْصَارَهُمْ سورة محمد آية 22 - 23 .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ نے رحم کو پیدا کیا، یہاں تک کہ جب وہ اس کی تخلیق سے فارغ ہو گیا، تو رحم کھڑا ہوا اس نے عرض کی: یہ قطع رحمی سے پناہ مانگنے والوں کا مقام ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جی ہاں! کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ جو تمہیں ملا کر رکھے گا۔ میں اسے ملاؤں گا اور جو تمہیں کاٹ دے گا میں اسے کاٹ دوں گا۔ اس نے عرض کی: جی ہاں!اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ چیز تمہیں مل گئی ۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو، تو یہ آیت تلاوت کر لو۔ ” (اے منافقین!) عنقریب یہ ہو گا کہ اگر تم واپس چلے گئے تو تم زمین میں فساد پیدا کرو گے اور رشتے داری کے حقوق کو پامال کرو گئے، یہی وہ لوگ ہیں جن پراللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے، انہیں بہرہ کیا ہے اور ان کی بصارت کو اندھا کر دیا ہے ۔“