کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: صلہ رحمی اور قطع رحمی کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی سابقہ روایت کا ہمارا کیا ہوا مفہوم درست ہے۔
حدیث نمبر: 440
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ الْجَرْمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ أَعْجَلَ الطَّاعَةِ ثَوَابًا صِلَةُ الرَّحِمِ ، حَتَّى إِنَّ أَهْلَ الْبَيْتِ لِيَكُونُوا فَجَرَةً ، فَتَنْمُو أَمْوَالُهُمْ ، وَيَكْثُرُ عَدَدُهُمْ إِذَا تَوَاصَلُوا ، وَمَا مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ يَتَوَاصَلَونَ فَيَحْتَاجُونَ " .
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” بیشک جس نیکی کا سب سے جلدی ثواب ملتا ہے وہ صلہ رحمی ہے۔ بیشک ایک گھرانے کے لوگ گناہ گار ہوتے ہیں، لیکن ان کے اموال زیادہ ہو جاتے ہیں۔ ان کی تعداد زیادہ ہو جاتی ہے، جب وہ صلہ رحمی کرتے ہیں اور جس گھرانے کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ صلہ رحمی کرتے ہوں، ایسا نہیں ہو گا کہ وہ محتاج ہوں ۔“