کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: صلہ رحمی اور قطع رحمی کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جو شخص صلہ رحمی کرے اور اسے دیگر عبادات کے ساتھ جوڑے تو اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 437
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَعْرَابِيًّا عَرَضَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخَذَ بِزِمَامِ نَاقَتِهِ ، فقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي بِأَمْرٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ وَيُنْجِينِي مِنَ النَّارِ ؟ قَالَ : فَنَظَرَ إِلَى وُجُوهِ أَصْحَابِهِ وَكَفَّ عَنْ نَاقَتِهِ وَقَالَ : " لَقَدْ وُفِّقَ ، أَوْ هُدِيَ ، لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَتُقِيمُ الصَّلاةَ ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ ، وَتَصِلُ الرَّحِمَ دَعِ النَّاقَةَ " .
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ گیا۔ اس نے آپ کی اونٹنی کی لگام کو پکڑ لیا اور عرض کی: یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ایسے معاملے کے بارے میں بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور جہنم سے نجات دیدے۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے چہروں کی طرف دیکھا اور اپنی اونٹنی کو روک لیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: اس شخص کو توفیق دی گئی۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) ہدایت دی گئی، تم کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراؤ، تم نماز ادا کرو، زکوۃ ادا کرو۔ صلہ رحمی کرو اور (اب) اونٹنی کو چھوڑ دو۔