کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: والدین کے حقوق کا بیان - اس بات کے استحباب کا ذکر کہ اگر والدین نہ ہوں تو بندہ اپنی خالہ کے ساتھ حسن سلوک کرے۔
حدیث نمبر: 435
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ بِنَسَا ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَجُلٌ ، فقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَذْنَبْتُ ذَنْبًا كَبِيرًا ، فَهَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ ؟ فقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَكَ وَالِدَانِ ؟ " ، قَالَ : لا ، قَالَ : " فَلَكَ خَالَةٌ " ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَبِرَّهَا إِذًا " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے بہت زیادہ گناہ کئے ہیں۔ کیا میرے لئے توبہ کی گنجائش ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تمہارے ماں باپ ہیں؟ اس نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تمہاری خالہ ہیں؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 435
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق الرغيب» (3/ 218). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين. أبو معاوية: هو محمد بن خازم. وأبو بكر بن حفص هو ابن عمر بن سعد بن أبي وقاص، واسمه عبد الله، مشهور بكنيته، روى له الجماعة.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 436»