کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: والدین کے حقوق کا بیان - اس بات کا ذکر کہ بندہ اپنی ماں کے ساتھ حسن سلوک میں باپ پر مبالغہ کو ترجیح دے جب تک وہ اسے کسی گناہ پر مجبور نہ کرے۔
حدیث نمبر: 434
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صُحْبَتِي ؟ قَالَ : " أُمُّكَ " ، فقَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " أُمُّكَ " ، قَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " أُمُّكَ " ، قَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " أَبُوكَ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے دریافت کیا: میرے اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری والدہ، تو اس نے دریافت کیا: پھر کون ہے؟ آپ نے فرمایا: تمہاری والدہ اس نے دریافت کیا: پھر کون ہے؟ آپ نے فرمایا: تمہاری والدہ، تو اس نے دریافت کیا: پھر کون ہے؟ آپ نے فرمایا: تمہارا والد۔