کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: والدین کے حقوق کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ بندہ اپنی ماں کے ساتھ حسن سلوک کو باپ پر ترجیح دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 433
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ الصُّحْبَةِ ؟ قَالَ : " أُمُّكَ " ، قَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " أُمُّكَ " ، قَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " أَبُوكَ " ، قَالَ : فَيَرَوْنَ أَنَّ لِلأُمِّ ثُلُثَيِ الْبِرِّ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہاری والدہ، اس نے دریافت کیا: پھر کون ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہاری والدہ۔ اس نے دریافت کیا: پھر کون ہے؟ آپ نے فرمایا: تمہارا والد۔ راوی کہتے ہیں: علماء اس بات کے قائل ہیں: دو تہائی اچھا سلوک والدہ کے ساتھ کیا جائے گا۔