کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: والدین کے حقوق کا بیان - اس وضاحت کا ذکر کہ بندہ اپنے والد کے بعد اس کے دوستوں سے تعلق قائم رکھے تو یہ والد کے ساتھ اس کی قبر میں صلہ رحمی شمار ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 432
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَزْمُ بْنُ أَبِي حَزْمٍ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ ، فَأَتَانِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، فقَالَ : أَتَدْرِي لِمَ أَتَيْتُكَ ؟ قَالَ : قُلْتُ لا ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصِلَ أَبَاهُ فِي قَبْرِهِ ، فَلْيَصِلْ إِخْوَانَ أَبِيهِ بَعْدَهُ " وَإِنَّهُ كَانَ بَيْنَ أَبِي عُمَرَ وَبَيْنَ أَبِيكَ إِخَاءٌ وَوُدٌّ ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَصِلَ ذَاكَ .
ابوبردہ بیان کرتے ہیں: میں مدینہ منورہ آیا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما میرے پاس تشریف لائے۔ انہوں نے دریافت کیا: تم جانتے ہو کہ میں تمہارے پاس کیوں آیا ہوں؟ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” جو شخص اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے باپ کے ساتھ اس کی قبر میں اچھا سلوک کرے، اسے اپنے باپ کے بعد اپنے باپ کے بھائیوں سے اچھا سلوک کرنا چاہئے ۔“ (سیدنا ابن عمر نے بتایا) میرے والد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور تمہارے والد کے درمیان بھائی چارگی اور دوستی تھی، تو میں یہ چاہتا ہوں کہ میں اس حوالے سے (تمہارے ساتھ) اچھا سلوک کروں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 432
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - «التعليق الرغيب» (3/ 219). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري، ونسبه ابن حجر في "المطالب العالية" "2518" إلى أبي يعلى.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 433»