کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: والدین کے حقوق کا بیان - اس بات کے استحباب کا ذکر کہ بندہ اپنے والد کے بعد اس کے دوستوں اور ساتھیوں سے تعلق جوڑے تاکہ والد کے ساتھ حسن سلوک میں مبالغہ ہو سکے۔
حدیث نمبر: 430
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ أَنْ يَصِلَ الرَّجُلُ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” بیشک سب سے عمدہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے دوست کے گھر والوں کے ساتھ اچھا سلوک کرے ۔“