کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: والدین کے حقوق کا بیان - اس بات کے استحباب کا ذکر کہ اگر والد کا حکم دین کے بگاڑ یا قطع رحمی کا باعث نہ ہو تو بیٹے کے لیے اپنی بیوی کو طلاق دینا مستحب ہے۔
حدیث نمبر: 426
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، وَعُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ خَالِهِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ تَزَوَّجَ أَبِي امْرَأَةً وَكَرِهَهَا عُمَرُ ، فَأَمَرَهُ بِطَلاقِهَا فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ " أَطِعْ أَبَاكَ " .
حمزہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: میرے والد نے ایک خاتون کے ساتھ شادی کی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو وہ عورت اچھی نہیں لگی۔ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ ہدایت کی کہ وہ اس عورت کو طلاق دیدیں۔ انہوں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے والد کی بات مان لو۔