کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: والدین کے حقوق کا بیان - اس امید کا ذکر کہ والد کے ساتھ حسن سلوک میں مبالغہ کرنے والے کے لیے جنت میں داخلے کی امید ہے۔
حدیث نمبر: 425
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ : أَنَّ رَجُلا أَتَى أَبَا الدَّرْدَاءِ ، فقَالَ : إِنَّ أَبِي لَمْ يَزَلْ بِي حَتَّى تَزَوَّجْتُ ، وَإِنَّهُ الآنَ يَأْمُرُنِي بِطَلاقِهَا ، قَالَ : مَا أَنَا بِالَّذِي آمُرُكَ أَنْ تَعُقَّ وَالِدَكَ ، وَلا أَنَا بِالَّذِي آمُرُكَ أَنْ تُطَلِّقَ امْرَأَتَكَ ، غَيْرَ أَنَّكَ إِنْ شِئْتَ ، حَدَّثْتُكَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : " الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ ، فَحَافِظْ عَلَى ذَلِكَ إِنْ شِئْتَ ، أَوْ دَعْ " ، قَالَ : فَأَحْسِبُ عَطَاءً ، قَالَ : فَطَلَّقَهَا .
ابوعبدالرحمان سلمی بیان کرتے ہیں: ایک شخص سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: میرے والد نے بہت اصرار کر کے میری شادی کروائی اور اب وہ مجھے کہہ رہے ہیں کہ میں اس عورت کو طلاق دیدوں۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تمہیں اس بات کی ہدایت نہیں کروں گا کہ تم اپنے باپ کی نافرمانی کرو اور میں تمہیں یہ بھی نہیں کہوں گا کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دیدو، البتہ اگر تم چاہو، تو میں تمہیں وہ بات سنا دیتا ہوں جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے۔ میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” والد جنت کے دروازوں میں سے درمیانی دروازہ ہے، اب اگر تم چاہو، تو اس کی حفاظت کرو اور اگر چاہو، تو چھوڑ دو ۔“
راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے، عطاء نامی راوی نے یہ بات بیان کی تھی: پھر اس شخص نے اس عورت کو طلاق دیدی تھی۔
راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے، عطاء نامی راوی نے یہ بات بیان کی تھی: پھر اس شخص نے اس عورت کو طلاق دیدی تھی۔