کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: والدین کے حقوق کا بیان - اس بات کے استحباب کا ذکر کہ بندہ اپنے والد کے ساتھ حسن سلوک میں مبالغہ کرے تاکہ نیکوکاروں میں شامل ہو سکے۔
حدیث نمبر: 424
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، وَأَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِدَهُ ، إِلا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا ، فَيَشْتَرِيَهُ فَيَعْتِقَهُ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” کوئی بھی شخص اپنے باپ کو بدلا نہیں دے سکتا، ماسوائے اس صورت حال کے، کہ وہ اس (باپ) کو غلام کی حیثیت میں پائے اور اسے خرید کر آزاد کر دے ۔“