کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: والدین کے حقوق کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک نفل جہاد پر واجب ہے۔
حدیث نمبر: 423
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُبَايِعُهُ عَلَى الْهِجْرَةِ ، وَقَدْ أَسْلَمَ ، وَقَالَ : قَدْ تَرَكْتُ أَبَوَيَّ يَبْكِيَانِ ، قَالَ : " ارْجِعْ إِلَيْهِمَا ، فَأَضْحِكْهُمَا كَمَا أَبْكَيْتَهُمَا " وَأَبَى أَنْ يَخْرُجَ مَعَهُ .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہجرت کی بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوا۔ اس نے اسلام قبول کیا، تو اس نے عرض کی: میں نے اپنے ماں باپ کو روتے ہوئے چھوڑا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان کے پاس واپس جاؤ اور جس طرح تم نے ان کو رلایا ہے اسی طرح ان دونوں کو ہنساؤ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اس بات کو تسلیم نہیں کیا کہ وہ آپ کے ساتھ (جہاد کے لئے) جائے۔