کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: والدین کے حقوق کا بیان - اس وضاحت کا ذکر کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک نفل جہاد سے افضل ہے۔
حدیث نمبر: 422
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمَذَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ دَرَّاجٍ ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَجُلا هَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِنَ الْيَمَنِ ، فقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي هَاجَرْتُ ؟ فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ هَجَّرْتَ الشِّرْكَ ، وَلَكِنَّهُ الْجِهَادُ ؟ هَلْ لَكَ أَحَدٌ بِالْيَمَنِ " ؟ قَالَ : أَبَوَايَ ، قَالَ : " أَذِنَا لَكَ ؟ " ، قَالَ : لا ، قَالَ : " ارْجِعْ فَاسْتَأْذِنْهُمَا ، فَإِنْ أَذِنَا لَكَ ، فَجَاهِدْ ، وَإِلا فَبِرَّهُمَا " .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص یمن سے ہجرت کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے ہجرت کر لی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم نے شرک سے لاتعلقی اختیار کی ہے، لیکن جہاد (کا معاملہ باقی ہے) کیا یمن میں تمہارا کوئی عزیز ہے اس نے عرض کیا میرے ماں باپ ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں نے تمہیں اجازت دی تھی؟ اس نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم واپس جاؤ اور ان دونوں سے اجازت لو اگر وہ تمہیں اجازت دیدیں، تو تم جہاد میں حصہ لو ورنہ تم ان کی خدمت کرو ۔“