کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: والدین کے حقوق کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک میں کوشش کرنا ان کے ساتھ حسن سلوک میں مبالغہ ہے۔
حدیث نمبر: 421
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَجُلا ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَأْذَنُ لِي فِي الْجِهَادِ ، قَالَ : " أَلَكَ وَالِدَانِ " ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " اذْهَبْ فَبِرَّهُمَا " فَذَهَبَ وَهُوَ يَحْمِلُ الرِّكَابَ .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے جہاد کرنے کی اجازت دیتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے ماں باپ ہیں؟ اس نے عرض کی: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جاؤ اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو، تو وہ شخص چلا گیا حالانکہ وہ رکاب اٹھا کر آیا تھا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 421
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - المصدر نفسه. [يتخلَّل] قال الشيخ: في الأصل «محلَّل»، وفي مطبوع الرسالة: «يحمل». فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 422»