کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: والدین کے حقوق کا بیان - اس بات کے استحباب کا ذکر کہ بندہ نفل جہاد پر والدین کے ساتھ حسن سلوک کو ترجیح دے۔
حدیث نمبر: 420
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ وَهُوَ السَّائِبُ بْنُ فَرُّوخٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أُجَاهِدُ ؟ قَالَ : " لَكَ أَبَوَانِ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ " .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں جہاد میں حصہ لینا چاہتا ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تمہارے ماں باپ ہیں؟ اس نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان دونوں کی بھرپور (خدمت کرو)