کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: والدین کے حقوق کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ جس شخص کے والدین اس کی زندگی میں فوت ہو جائیں، اس پر بھی والدین کے ساتھ حسن سلوک کا وصف قائم رہتا ہے۔
حدیث نمبر: 418
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عُبَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ ، قَالَ : أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ ، وَأَنَا عِنْدَهُ ، فقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبَوَيَّ قَدْ هَلَكَا ، فَهَلْ بَقِيَ لِي بَعْدَ مَوْتِهِمَا مِنْ بِرِّهِمَا شَيْءٌ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ ، الصَّلاةُ عَلَيْهِمَا ، وَالاسْتِغْفَارُ لَهُمَا ، وَإِنْفَاذُ عُهُودِهِمَا مِنْ بَعْدِهِمَا ، وَإِكْرَامُ صَدِيقِهِمَا ، وَصِلَةُ رَحِمِهِمَا الَّتِي لا رَحِمَ لَكَ إِلا مِنْ قِبَلِهِمَا " ، قَالَ الرَّجُلُ : مَا أَكْثَرَ هَذَا ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَأَطْيَبَهُ ! ، قَالَ : " فَاعْمَلْ بِهِ " .
سیدنا ابواسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بنو سلمہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ انتقال کر چکے ہیں۔ کیا ان کے انتقال کے بعد ان کے ساتھ نیکی کرنے کی کوئی صورت ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! تم ان کے لئے دعائے رحمت کرو ان کے لئے دعائے مغفرت کرو اور ان کے بعد ان کے کئے ہوئے عہد کو پورا کرو۔ ان کے دوستوں کی عزت افزائی کرو ان کے رشتے داروں کے حقوق کا خیال رکھو وہ رشتے دار جن کے ساتھ تمہارا رشتہ صرف انہی کے حوالے سے ہے۔ اس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ کتنی زبردست اور عمدہ بات ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس پر عمل کرو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 418
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «الضعيفة» (597). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط علي بن عبيد مجهول، لم يوثقه غير المؤلف، ولم يرو عنه سوى ابنه أسيد، وباقي رجاله ثقات. حبان: هو ابن موسى، وعبد الله: هو ابن المبارك. وعبد الرحمن بن سليمان: هو ابنُ الغسيل. ومع ذلك فقد صححه الحاكم 4/ 154، ووافقه الذهبي.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 419»