کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: والدین کے حقوق کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس قول کو رد کرتی ہے کہ اس روایت میں مسعر بن کِدام سے وہم ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 412
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمَذَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ أَنْ يَسُبَّ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ " ، قَالَ : وَكَيْفَ يَسُبُّ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ ؟ قَالَ : " يَسُبُّ أَبَا الرَّجُلِ فَيَسُبُّ أَبَاهُ ، وَيَسُبُّ أُمَّهُ فَيَسُبُّ أُمَّهُ " .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” بیشک بڑے کبیرہ گناہوں میں سے ایک یہ ہے کہ آدمی اپنے ماں باپ کو برا کہے (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ) نے عرض کی: کوئی شخص اپنے ماں باپ کو کیسے برا کہہ سکتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی دوسرے کے باپ کو برا کہتا ہے، تو وہ اس کے باپ کو برا کہتا ہے۔ وہ اس کی ماں کو برا کہتا ہے، تو وہ اس کی ماں کو برا کہتا ہے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 412
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق الرغيب» (3/ 221): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 413»