کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: اخلاص اور پوشیدہ اعمال کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی پر لازم ہے کہ خلوت کے اوقات میں اپنے احوال کا خیال رکھے۔
حدیث نمبر: 402
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلا أَدُلُّكُمْ عَلَى شَيْءٍ يُكَفِّرُ الْخَطَايَا ، وَيَزِيدُ فِي الْحَسَنَاتِ ؟ " قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ أَوِ الطُّهُورِ فِي الْمَكَارِهِ ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى هَذَا الْمَسْجِدِ ، وَالصَّلاةُ بَعْدَ الصَّلاةِ وَمَا مِنْ أَحَدٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ مُتَطَهِّرًا حَتَّى يَأْتِيَ الْمَسْجِدَ ، فَيُصَلِّي مَعَ الْمُسْلِمِينَ ، أَوْ مَعَ الإِمَامِ ، ثُمَّ يَنْتَظِرُ الصَّلاةَ الَّتِي بَعْدَهَا ، إِلا ، قَالَتِ الْمَلائِكَةُ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ فَإِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ ، فَاعْدِلُوا صُفُوفَكُمْ ، وَسُدُّوا الْفُرَجَ ، فَإِذَا كَبَّرَ الإِمَامُ ، فَكَبِّرُوا ، فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَائِي ، وَإِذَا ، قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقُولُوا : رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ وَخَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ الْمُقَدَّمُ ، وَشَرُّ صُفُوفِ الرِّجَالِ الْمُؤَخَّرُ ، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ الْمُؤَخَّرُ ، وَشَرُّ صُفُوفِ النِّسَاءِ الْمُقَدَّمُ ، يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ ، إِذَا سَجَدَ الرِّجَالُ ، فَاحْفَظْنَ أَبْصَارَكُنَّ مِنْ عَوْرَاتِ الرِّجَالِ " فَقُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ : مَا يَعْنِي بِذَلِكَ ؟ قَالَ : ضِيقُ الأُزُرِ .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” کیا میں تمہاری رہنمائی ایسی چیز کی طرف کروں؟ جو گناہوں کو ختم کر دیتی ہے۔ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب طبیعت آمادہ نہ ہو، اس وقت اچھی طرح وضو کرنا (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے کہ لفظ وضو استعمال ہوا ہے یا طہارت استعمال ہوا ہے) اور اس مسجد کی طرف زیادہ چل کر آنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز ادا کرنا جو بھی شخص اچھی طرح وضو کر کے اپنے گھر سے نکل کر مسجد تک آتا ہے اور مسلمانوں کے ساتھ (راوی کو یہ شک ہے شاید) امام کی اقتداء میں نماز ادا کرتا ہے اور پھر وہ اس سے بعد والی نماز کا انتظار کرتا ہے، تو فرشتے یہ کہتے ہیں: اے اللہ! تو اس کی مغفرت کر دے۔ اے اللہ! تو اس پر رحم کر۔ جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو، تو اپنی صفوں کو سیدھا کر لو اور درمیان میں خالی جگہ کو پر کر دو جب امام تکبیر کہے، تو تم بھی تکبیر کہو، کیونکہ میں تم لوگوں کو اپنے پیچھے بھی دیکھ لیتا ہوں جب امام «سمع اللہ لمن حمدہ» کہے تو تم «ربنا لك الحمد» کہو۔ مردوں کی سب سے زیادہ بہتر صف آگے والی ہے اور مردوں کی کم بہتر صنف سب سے پیچھے والی ہے اور خواتین کی سب سے بہتر صف سب سے پیچھے والی ہے اور سب سے کم بہتر صف سب سے آگے والی ہے۔ اے خواتین کے گروہ! جب مرد سجدے میں جائیں، تو تم لوگ مردوں کی شرم گاہ کے حوالے سے اپنی نگاہوں کی حفاظت کرو ۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن ابوبکر سے دریافت کیا: اس سے مراد کیا ہے؟ (یعنی اس حکم کی وجہ کیا ہے)، تو انہوں نے فرمایا: کیونکہ ان کے تہبند چھوٹے ہوتے تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 402
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق الرغيب» (1/ 161). * [ابْنُ خُزَيْمَةَ] قال الشيخ: أخرجه في «صحيحه» مُفرَّقاً في مواضعَ (1/ 90/ 177 و185/ 353 و 3/ 28/ 1562) لكن من طريق أبي موسى: حدثني الضحَّاك بن مخلد - أبو عاصم - به. ومن هذا وجهٌ آخر: أخرجه الحاكم (1/ 191 - 192)، وقال: «صحيح على شرط الشيخين»، ووافقه الذهبي. وأعلَّهُ ابنُ خزيمةَ بتفرُّد أبي عاصمٍ، ومُخالفتِه زهيرَ بنَ محمد! وهو إعلالٌ غريبٌ، فأبو عاصمٍ ثقةٌ ثبتٌ، كما في «التقريب»، وزهيرُ بنُ محمد - وهو أبو محمد الخُراسانيُّ - فيه كلامٌ معروفٌ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري، محمد بن عبد الرحيم من رجال البخاري، ومن فوقه من رجال الشيخين، أبو عاصم هو الضحاك بن مخلد. وسفيان: هو الثوري.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 403»