کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: اخلاص اور پوشیدہ اعمال کا بیان - اس بات کا ذکر کہ مسلمان کا اخلاص اسے نفع دیتا ہے یہاں تک کہ وہ زمانۂ کفر کے گناہوں کو بھی مٹا دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 396
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُؤَاخِذُ اللَّهُ أَحَدَنَا بِمَا كَانَ يَعْمَلُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ؟ قَالَ : " مَنْ أَحْسَنَ فِي الإِسْلامِ ، لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَمَنْ أَسَاءَ فِي الإِسْلامِ ، أُخِذَ بِالأَوَّلِ وَالآخِرِ " .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیااللہ تعالیٰ ہم میں سے کسی ایک شخص کے ان اعمال کا بھی مواخذہ کرے گا، جو وہ زمانہ جاہلیت میں کیا کرتا تھا؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اسلام میں اچھائی کرے گا۔ اس نے زمانہ جاہلیت میں جو کچھ کیا اس پر اس کا مواخذہ نہیں ہو گا اور جو شخص اسلام میں برائی کرے گا، تو اس کے پہلے اور بعد والے (تمام اعمال) کا مواخذہ ہو گا۔