کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: اخلاص اور پوشیدہ اعمال کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جس نے دنیا میں اپنا عمل اللہ کے لیے خالص نہ کیا تو اسے آخرت میں اس پر کوئی اجر نہیں ملے گا۔
حدیث نمبر: 395
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ بِالْفُسْطَاطِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ أَبِي خِيَرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَلاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : أَنَا خَيْرُ الشُّرَكَاءِ ، مَنْ عَمِلَ عَمَلا ، فَأَشْرَكَ فِيهِ غَيْرِي ، فَأَنَا مِنْهُ بَرِئٌ ، هُوَ لِلَّذِي أَشْرَكَ بِهِ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے: میں تمام شراکت داروں سے زیادہ بہتر ہوں، جو شخص کوئی عمل کرتا ہے اور وہ اس میں میرے علاوہ دوسرے کو شریک کر لیتا ہے، تو میں اس عمل سے لاتعلق ہوں یہ عمل اس کے لئے ہو گا۔ جس کو اس شخص نے شریک کیا ہے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 395
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «أحكام الجنائز» (ص 71): م نحوه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط عبد الرحمن بن عثمان هو البكراوي أبو بحر، ضعفه غير واحد، ومنهم المصنف في «المجروحين» 2/ 61، لكنه لم ينفرد به، بل تابعه عليه غير واحد، وباقي رجاله ثقات. العلاء: هو ابن عبد الرحمن.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 396»