کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: اخلاص اور پوشیدہ اعمال کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس قول کو رد کرتی ہے کہ یہ روایت اعمش نے صرف ابو الضحی سے سنی ہے۔
حدیث نمبر: 391
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَة ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ وَهْبٍ هُوَ ابْنُ رَبِيعَةَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : إِنِّي لَمُسْتَتِرٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ ، إِذْ جَاءَ ثَلاثَةُ نَفَرٍ : ثَقَفِيٌّ وَخَتَنَاهُ قُرَشِيَّانِ ، كَثِيرٌ شَحْمُ بُطُونِهِمْ ، قَلِيلٌ فِقْهُهُمْ ، فَتَحَدَّثُوا الْحَدِيثَ بَيْنَهُمْ ، فقَالَ أَحَدُهُمْ : أَتَرَى اللَّهَ يَسْمَعُ مَا قُلْنَا ؟ وَقَالَ الآخَرُ : إِذَا رَفَعْنَا سَمِعَ ، وَإِذَا خَفَضْنَا لَمْ يَسْمَعْ ، وَقَالَ الآخَرُ : إِنْ كَانَ يَسْمَعُ إِذَا رَفَعْنَا ، فَإِنَّهُ يَسْمَعُ إِذَا خَفَضْنَا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ ، وَلا أَبْصَارُكُمْ ، وَلا جُلُودُكُمْ سورة فصلت آية 22 الآيَةَ .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں خانہ کعبہ کے پردوں کے پیچھے چھپا ہوا تھا۔ اسی دوران تین آدمی وہاں آئے ایک ثقیف قبیلے سے تعلق رکھتا تھا، اور دو اس کے قریشی داماد تھے۔ ان کے پیٹ پر چربی زیادہ تھی اور عقل ان میں کم تھی۔ وہ آپس میں بات چیت کرنے لگے۔ ان میں سے ایک نے کہا:اللہ تعالیٰ کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ ہم جو کہتے ہیں: کیا وہ سن لیتا ہے؟ دوسرے نے کہا: اگر ہم بلند آواز میں بات کریں گے، تو وہ سن لے گا اگر پست آواز میں بات کریں، تو نہیں سنے گا۔ تیسرے نے کہا: اگر وہ بلند آواز میں بات سن لیتا ہے، تو پھر وہ پست آواز میں بات بھی سن لے گا۔ (سیدنا عبداللہ کہتے ہیں) میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تواللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ” اور جو کچھ بھی تم پوشیدہ رکھتے ہو، تو تمہاری سماعت اور تمہاری بصارت اور تمہاری کھالیں تمہارے خلاف گواہی دیں گی ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 391
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير وهب بن ربيعة، فمن رجال مسلم، وذكره ابن حبان في «الثقات»، وقد توبع عليه، وباقي رجاله ثقات. سفيان هو الثوري.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 392»