کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: اخلاص اور پوشیدہ اعمال کا بیان -
حدیث نمبر: 388
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَبَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ الطُّوسِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ ، وَلِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى ، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا ، أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ " .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” اعمال (کی جزاء) کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر آدمی کو وہی ملے گا، جو اس نے نیت کی ہو گی۔ جس شخص کی ہجرتاللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف ہو گی۔ اس کی ہجرتاللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف شمار ہو گی اور جس شخص کی ہجرت دنیا کے حصول کے لئے یا کسی عورت کے ساتھ شادی کے لئے ہو گی، تو اس کی ہجرت اسی طرف شمار ہو گی جس کی طرف (نیت کر کے) اس نے ہجرت کی تھی ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 388
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1911): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، عبد الله بن هاشم الطوسي ثقة من رجال مسلم، ومن فوقه ثقات على شرطهما.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 389»
حدیث نمبر: 389
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ ، وَلِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى ، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا ، أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ " .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” اعمال (کی جزاء) کا مدار نیت پر ہے اور ہر آدمی کو وہی ملے گا، جو اس نے نیت کی ہے، جس شخص کی ہجرتاللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف ہو گئی، تو اس کی ہجرتاللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف شمار ہو گی اور جس شخص کی ہجرت دنیاوی فائدے کے حصول کے لئے یا کسی عورت کے ساتھ شادی کرنے کے لئے ہو گی، تو اس کی ہجرت اسی طرف شمار ہو گی جس طرف (نیت کر کے) اس نے ہجرت کی ہے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 389
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط والد عمر بن سعيد لم نقف له على ترجمة، وقد ذكره في «تهذيب الكمال» في ترجمة عيسى بن يونس السبيعي فيمن روى عنه، ومن فوقه ثقات على شرطهما.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 390»