کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس پر دلالت کرتی ہے کہ جب بندہ کسی ممنوع چیز کو اللہ جل وعلا کے لیے چھوڑتا ہے حالانکہ وہ اس پر قادر ہوتا ہے، تو اس کے ذریعے اس کے پچھلے گناہوں کی مغفرت کی امید کی جا سکتی ہے۔
حدیث نمبر: 387
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَكْثَرَ مِنْ عِشْرِينَ مَرَّةً ، يَقُولُ : " كَانَ ذُو الْكِفْلِ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ لا يَتَوَرَّعُ مِنْ شَيْءٍ ، فَهَوِيَ امْرَأَةً ، فَرَاوَدَهَا عَلَى نَفْسِهَا ، وَأَعْطَاهَا سِتِّينَ دِينَارًا ، فَلَمَّا جَلَسَ مِنْهَا ، بَكَتْ وَأُرْعِدَتْ ، فقَالَ لَهَا : مَا لَكِ ؟ فَقَالَتْ : إِنِّي وَاللَّهِ لَمْ أَعْمَلْ هَذَا الْعَمَلَ قَطُّ ، وَمَا عَمِلْتُهُ إِلا مِنْ حَاجَةٍ ، قَالَ : فَنَدِمَ ذُو الْكِفْلِ ، وَقَامَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ مِنْهُ شَيْءٌ ، فَأَدْرَكَهُ الْمَوْتُ مِنْ لَيْلَتِهِ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ ، وَجَدُوا عَلَى بَابِهِ مَكْتُوبًا : إِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیس سے زیادہ مرتبہ یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے: ” ذوالکفل “ کا تعلق بنی اسرائیل سے تھا وہ کسی بھی گناہ سے بچتا نہیں تھا۔ ایک مرتبہ وہ ایک عورت کے پاس گیا۔ اس عورت نے اپنا آپ اس کے سامنے پیش کر دیا۔ ذوالکفل نے اسے ساٹھ دینار دیئے جب وہ اس عورت کے پاس آ کر بیٹھا، تو وہ عورت رونے لگی اور کپکپانے لگی۔ ذوالکفل نے دریافت کیا: تمہیں کیا ہوا؟ اس نے جواب دیا: اللہ کی قسم! میں نے کبھی یہ عمل (گناہ کا کام) نہیں کیا اور میں صرف مجبوری کی وجہ سے یہ کرنے لگی ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، تو ذوالکفل کو ندامت ہوئی اور وہ کچھ بھی کئے بغیر اٹھ کھڑا ہوا۔ اسی رات اسے موت آ گئی۔ صبح کے وقت اس کے دروازے پر یہ لکھا ہوا تھا۔ ” بیشکاللہ تعالیٰ نے تمہاری مغفرت کر دی ہے ۔“