کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس پر دلالت کرتی ہے کہ بڑی بڑی کبیرہ گناہیں بھی تھوڑے سے نفل اعمال کے ذریعے معاف ہو سکتی ہیں۔
حدیث نمبر: 386
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ امْرَأَةً بَغِيًّا رَأَتْ كَلْبًا فِي يَوْمٍ حَارٍّ يُطِيفُ بِبِئْرٍ ، قَدْ أَدْلَعَ لِسَانَهُ مِنَ الْعَطَشِ ، فَنَزَعَتْ لَهُ ، فَسَقَتْهُ ، فَغُفِرَ لَهَا " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” ایک فاحشہ عورت نے ایک سخت گرم دن میں ایک کتے کو دیکھا جو ایک کنویں کے کنارے چکر لگا رہا تھا، اور وہ اپنی زبان پیاس کی شدت کی وجہ سے باہر نکال رہا تھا۔ اس عورت نے اسے پانی نکال کر دیا اور اسے پلایا، تو اس عورت کی مغفرت ہو گئی ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 386
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (30): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، أبو خالد هو الأحمر سليمان بن حيان الأزدي، روى له البخاري متابعة، وباقي السند على شرطهما. هشام هو ابن حسان، ومحمد هو ابن سيرين.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 387»