کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس وضاحت کا ذکر کہ اللہ جل وعلا مومن کو دنیا میں اس کی نیکیوں پر بھی بدلہ دیتا ہے جس طرح برائیوں پر دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 377
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لا يَظْلِمُ الْمُؤْمِنَ حَسَنَةً يُثَابُ عَلَيْهَا الرِّزْقَ فِي الدُّنْيَا ، وَيُجْزَى بِهَا فِي الآخِرَةِ ، فَأَمَّا الْكَافِرُ ، فَيَطْعَمُ بِحَسَنَاتِهِ فِي الدُّنْيَا ، فَإِذَا أَفْضَى إِلَى الآخِرَةِ ، لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَةٌ يُعْطَى بِهَا خَيْرًا " .
سیدنا انس بن مالک رضی الله عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” بیشکاللہ تعالیٰ کسی مومن پر نیکی کے حوالے سے ظلم نہیں کرتا وہ دنیا میں اسے رزق عطا کرتا ہے اور آخرت میں اس نیکی کا بدلہ عطا کرے گا جہاں تک کافر کا تعلق ہے، تو وہ دنیا میں اپنی نیکیوں کا پھل کھا لیتا ہے اور جب وہ آخرت کی طرف جائے گا، تو اس کے پاس کوئی نیکی نہیں ہو گی، جس کے عوض میں اسے کوئی بھلائی دی جائے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 377
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (53): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 378»