کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - ان اوصاف کا ذکر کہ جن پر یا ان میں سے کچھ پر عمل کرنے والا جنتیوں میں شمار ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 374
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ طَلْحَةَ الْيَامِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَلِّمْنِي عَمَلا يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ ، قَالَ : " لَئِنْ كُنْتَ أَقْصَرْتَ الْخُطْبَةَ ، فَقَدْ أَعْرَضْتَ الْمَسْأَلَةَ : أَعْتِقِ النَّسَمَةَ ، وَفُكَّ الرَّقَبَةَ " ، قَالَ : أَوَ لَيْسَتَا بِوَاحِدَةٍ ؟ قَالَ : لا ، عِتْقُ النَّسَمَةِ أَنْ تَفَرَّدَ بِعِتْقِهَا ، وَفَكُّ الرَّقَبَةِ أَنْ تُعْطِي فِي ثَمَنِهَا ، وَالْمِنْحَةُ الْوَكُوفُ وَالْفَيْءُ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الْقَاطِعِ ، فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَاكَ ، فَأَطْعِمِ الْجَائِعَ ، وَاسْقِ الظَّمْآنَ ، وَمُرْ بِالْمَعْرُوفِ ، وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ ، فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَلِكَ ، فَكُفَّ لِسَانَكَ إِلا مِنْ خَيْرٍ " .
سیدنا براء بن عازب رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے کسی ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم نے مختصر الفاظ استعمال کئے ہیں اور بڑی بات دریافت کی ہے، تم جان (یعنی غلام یا کنیز) کو آزاد کرو اور گردن کو چھڑاؤ اس نے دریافت کیا: یہ دونوں ایک ہی چیز نہیں ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں جان کو آزاد کرنے سے مراد یہ ہے کہ تم صرف اسے آزاد کرو اور گردن کو چھڑانے سے مراد یہ ہے کہ تم اس کی قیمت ادا کرو (اور دوسرے شخص کے غلام کو آزاد کر دو) ایسا عطیہ دینا جو مسلسل جاری ہو اور رشتے داری کے حقوق کا خیال نہ رکھنے والے رشتے دار پر خرچ کرنا اور اگر تم اس کی طاقت نہیں رکھتے، تو تم بھوکے کو کھانا کھلا دو اور پیاسے کو کچھ پلا دو نیکی کا حکم دو برائی سے منع کر دو اگر تم اس کی بھی طاقت نہیں رکھتے، تو تم بھلائی کی بات کے علاوہ اپنی زبان کو روک کے رکھو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 374
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني تنبيه!! هذا الحديث تكرر في «طبعة باوزير» في موضعين الموضع الأول (375) والثاني (4298) وفي كِلا الموضعين قال الشيخ: صحيح - «التعليق الرغيب» (2/ 47). أما في «طبعة المؤسسة» فلم يرد الحديث إلا في هذا الموضع لكن الحديث مكرر ولا فرق بينهما لا في الإسناد ولا في المتن. - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، محمد بن عثمان: هو محمد بن عثمان بن كرامة الكوفي.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 375»