کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا نے اپنے فرمانبردار بندوں کے لیے ایسی نعمتیں تیار کی ہیں جنہیں ان کے کسی حواس سے بیان نہیں کیا جا سکتا۔
حدیث نمبر: 369
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : أَعْدَدْتُ لِعِبَادِي الصَّالِحِينَ مَا لا عَيْنٌ رَأَتْ ، وَلا أُذُنٌ سَمِعَتْ ، وَلا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ ، وَمِصْدَاقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ : فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ سورة السجدة آية 17 " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا پتہ چلا ہے۔ ”اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے: میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ چیز تیار رکھی ہے، جو کسی آنکھ نے دیکھی نہیں ہے۔ کسی کان نے اس کے بارے میں سنا نہیں ہے۔ کسی انسان کے ذہن میں اس کا خیال تک نہیں آیا۔ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، یا شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا:) اس کا مصداقاللہ تعالیٰ کی کتاب میں موجود (یہ آیت ہے) کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کیلئے کیا چیز پوشیدہ رکھی گئی ہے، جو ان کے کئے ہوئے عمل کا بدلہ ہے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 369
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الروض» (1177): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، إبراهيم بن بشار: هو الرمادي أبو إسحاق البصري حافظ روى له أبو داود والترمذي، ومن فوقه ثقات من رجال الشيخين.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 370»