کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس وضاحت کا ذکر کہ جن لوگوں کی طاعات پر محبت کی گئی، یہ دراصل دنیا میں ان کے لیے بشارت کا جلدی آ جانا ہے۔
حدیث نمبر: 366
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو ذَرٍّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الرَّجُلَ يَعْمَلُ لِنَفْسِهِ ، وَيُحِبُّهُ النَّاسُ ؟ قَالَ : " تِلْكَ عَاجِلُ بُشْرَى الْمُؤْمِنِ " .
عبداللہ بن صامت بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! ایک شخص اپنے لئے عمل کرتا ہے، لیکن لوگ اس سے محبت کرتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ مومن کو جلدی مل جانے والی خوشخبری ہے۔