کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی پر لازم ہے کہ اسباب میں درستگی اور اعتدال اختیار کرے اور ان کے نتیجے پر خوش ہو۔
حدیث نمبر: 358
سَمِعْتُ الْفَضْلَ بْنَ الْحُبَابِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ بَكْرِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ مُسْلِمٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ الرَّبِيعَ بْنَ مُسْلِمٍ يَقُولُ : سَمِعْتُ مُحَمَّدًا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِهِ يَضْحَكُونَ ، فقَالَ : " لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ ، لَضَحِكْتُمْ قَلِيلا ، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا " فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ ، فقَالَ : إِنَّ اللَّهَ ، قَالَ لَكَ : لِمَ تُقَنِّطُ عِبَادِي ؟ قَالَ : فَرَجَعَ إِلَيْهِمْ وَقَالَ : " سَدِّدُوا وَأَبْشِرُوا " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر اپنے اصحاب کے کچھ افراد کے پاس سے ہوا جو ہنس رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو میں جانتا ہوں اگر وہ تم جان لو، تو تم تھوڑا ہنسا کرو اور زیادہ رویا کرو۔ تو سیدنا جبرائیل آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کی:اللہ تعالیٰ نے آپ سے یہ ارشاد فرمایا ہے: آپ میرے بندوں کو کیوں مایوس کر رہے ہیں؟ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس واپس تشریف لے گئے، تو آپ نے ارشاد فرمایا: تم ٹھیک رہو اور خوشخبری حاصل کرو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 358
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - وهو مكرر (113). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، وهو مكرر (113). وسيعيده المؤلف برقم (662) من طريق الزهري، عن ابن المسيب، عن أبي هريرة.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 359»