کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - طاعات میں میانہ روی کا حکم، کیونکہ آخرت میں کامیابی اللہ کی وسیع رحمت سے ہوگی، اعمال کی کثرت سے نہیں۔
حدیث نمبر: 350
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَدِّدُوا وَقَارِبُوا ، وَلا يُنْجِي أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ " قُلْنَا : وَلا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَلا أَنَا إِلا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” ٹھیک رہو اور میانہ روی اختیار کرو، کسی بھی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دلوائے گا ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ کو بھی نہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے بھی نہیں، البتہ مجھےاللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت میں ڈھانپ لیا ہے ۔“