کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی پر لازم ہے کہ جب وہ اوامر پر عمل کرے اور تمام منہیات سے دور رہے تو اپنے حالات میں اللہ پر بھروسہ کرے۔
حدیث نمبر: 347
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شَرِيكُ بْنُ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا يَقُولُ : مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا ، فَقَدْ آذَانِي ، وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ ، وَمَا يَزَالُ يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ ، كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا ، وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا فَإِنْ سَأَلَنِي عَبْدِي ، أَعْطَيْتُهُ ، وَإِنِ اسْتَعَاذَنِي ، أَعَذْتُهُ ، وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَدُّدِي عَنْ نَفْسِ الْمُؤْمِنِ ، يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَأَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ " قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : لا يُعْرَفُ لِهَذَا الْحَدِيثِ إِلا طَرِيقَانِ اثْنَانِ : هِشَامٌ الْكِنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ وَكِلا الطَّرِيقَيْنِ لا يَصِحُّ ، وَإِنَّمَا الصَّحِيحُ مَا ذَكَرْنَاهُ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” بے شکاللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے، جو شخص میرے ولی کے ساتھ دشمنی رکھتا ہے وہ مجھے (جنگ کی) دعوت دیتا ہے اور میرا بندہ جن چیزوں کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے ان میں سب سے زیادہ پسندیدہ چیزیں وہ ہیں جو میں نے اس پر فرض کی ہیں اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے مسلسل میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے، یہاں تک میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرتا ہوں، تو میں اس کی سماعت بن جاتا ہوں جس کی مدد سے وہ سنتا ہے۔ اس کی بصارت بن جاتا ہوں جس کی مدد سے وہ دیکھتا ہے۔ اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس کی مدد سے وہ پکڑتا ہے اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس کی مدد سے وہ چلتا ہے میرا بندہ جو مجھ سے مانگتا ہے میں اسے عطا کرتا ہوں اور پھر وہ مجھ سے پناہ مانگتا ہے، تو میں اسے پناہ دیتا ہوں اور مجھے کسی بھی کام کو کرنے میں اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا مومن کی جان قبض کرنے میں تردد ہوتا ہے، کیونکہ وہ موت کو پسند نہیں کرتا اور مجھے اس کا ناپسند کرنا، پسند نہیں ہے ۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت صرف انہی دو طریقوں سے معروف ہے یعنی ہشام کنعانی نے اسے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے، جبکہ عبدالواحد بن میمون نے عروہ کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا ہے، اور یہ دونوں سندیں مستند نہیں ہیں۔ صحیح روایت وہ ہے، جو ہم نے ذکر کی ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت صرف انہی دو طریقوں سے معروف ہے یعنی ہشام کنعانی نے اسے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے، جبکہ عبدالواحد بن میمون نے عروہ کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا ہے، اور یہ دونوں سندیں مستند نہیں ہیں۔ صحیح روایت وہ ہے، جو ہم نے ذکر کی ہے۔