کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس بات کی وضاحت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان «فكل ميسر» سے مراد یہ ہے کہ ہر ایک کے لیے وہی آسان کیا جاتا ہے جو اللہ کے علمِ سابق میں اس کے لیے خیر یا شر مقدر کیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 338
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْمُعَدِّلُ بِالْفُسْطَاطِ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قَتَادَةَ السُّلَمِيُّ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ ، ثُمَّ أَخَذَ الْخَلْقَ مِنْ ظَهْرِهِ ، فقَالَ : هَؤُلاءِ فِي الْجَنَّةِ وَلا أُبَالِي ، وَهَؤُلاءِ فِي النَّارِ وَلا أُبَالِي " ، قَالَ قَائِلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَعَلَى مَاذَا نَعْمَلُ ؟ قَالَ : " عَلَى مَوَاقِعِ الْقَدَرِ " .
سیدنا عبدالرحمن بن قتادہ سلمی رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا کیا پھر اس نے ان کی پشت میں سے مخلوق کو نکالا اور فرمایا: یہ جنت میں ہوں گے اور مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے اور یہ جہنم میں ہوں گے اور مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ! پھر ہم عمل کس بنیاد پر کریں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تقدیر کے فیصلے کی بنیاد پر ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 338
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (48). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي، الحارث بن مسكين ثقة روى له أبو داود والنسائي، ومن فوقه من رجال الصحيح غير راشد بن سعد، فقد روى له أصحاب السُّنن، وهو ثقة.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 339»