کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس بات کی خبر کہ بندے پر لازم ہے کہ وہ نافذ شدہ تقدیر پر بھروسہ کرتے ہوئے اوامر پر عمل اور منہیات سے رکنے کو ترک نہ کرے۔
حدیث نمبر: 336
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَعْمَلُ لأَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ ، أَمْ لأَمْرٍ نَأْتَنِفُهُ ؟ قَالَ : " لأَمْرٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ " ، قَالَ : فَفِيمَ الْعَمَلُ إِذًا ؟ فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ عَامِلٍ مُيَسَّرٌ لِعَمَلِهِ " .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا ہم کسی ایسے معاملے کے حوالے سے عمل کرتے ہیں جو پہلے سے طے ہو چکا ہے یا کسی ایسے معاملے کے حوالے سے کرتے ہیں جو نئے سرے سے رونما ہوتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک ایسی صورت ہے، جو پہلے سے طے ہو چکا ہے، تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: پھر عمل کیوں کیا جائے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر عمل کرنے والے کے لئے اس کا مخصوص عمل آسان کر دیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 336
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - عن جابر: أن سراقة قال ... انظر الذي بعده. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده على شرط مسلم.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 337»