کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس امر کا ذکر کہ بندے پر لازم ہے کہ وہ اللہ کے فیصلے پر بھروسہ کرتے ہوئے عمل سے غافل نہ ہو بلکہ ان اعمال کو اختیار کرے جو اسے اللہ کے قریب کریں۔
حدیث نمبر: 334
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ فِي جِنَازَةٍ فَأَخَذَ عُودًا ، فَجَعَلَ يَنْكُتُ بِهِ فِي الأَرْضِ ، فقَالَ : " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلا وَقَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ وَمَقْعَدُهُ مِنَ الْجَنَّةِ " ، فقَالَ رَجُلٌ : أَلا نَتَّكِلُ ؟ فقَالَ : " اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ " ثُمَّ قَرَأَ : فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى ، فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى ، وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى ، فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى سورة الليل آية 5 - 10 " .
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے میں شریک ہوئے آپ نے ایک شاخ لی اور اس کے ذریعے زمین کو کریدنے لگے پھر آپ نے یہ بات ارشاد فرمائی: ” تم میں سے ہر ایک شخص کا جہنم یا جنت میں مخصوص ٹھکانہ طے کر دیا گیا ہے “ تو ایک صاحب نے عرض کی: کیا ہم (اسی پر) تکیہ نہ کر لیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ عمل کرو، کیونکہ ہر شخص کے لئے (اس کا مخصوص عمل) آسان کر دیا جاتا ہے۔ “ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی: ” پس جو شخص دے اور پرہیزگاری اختیار کرے اور اچھائی کی تصدیق کرے، تو ہم اس کے لئے آسانی کو آسان کر دیں گے اور جو شخص بخل کا مظاہرہ کرے بے نیازی اختیار کرے اور اچھائی کی تکذیب کرے، تو ہم اس کے لئے تنگی کو آسان کر دیں گے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 334
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «ابن ماجه» (78): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين، أبو عبد الرحمن السلمي: اسمه عبد الله بن حبيب.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 335»