کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اہلِ جاہلیت خیر کے کاموں کو اپنے حسب و نسب میں فخر کے طور پر استعمال کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 332
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ الْجَوْهَرِيُّ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُرِّيَّ بْنَ قَطَرِيٍّ يُحَدِّثُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ ، وَكَانَ يَفْعَلُ وَيَفْعَلُ ، قَالَ: " إِنَّ أَبَاكَ أَرَادَ أَمْرًا فَأَدْرَكَهُ يَعْنِي الذِّكْرَ " ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَسْأَلُكَ عَنْ طَعَامٍ لا أَدَعُهُ إِلا تَحَرُّجًا ، قَالَ: " لا تَدَعْ شَيْئًا ضَارَعْتَ النَّصْرَانِيَّةَ فِيهِ " . قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أُرْسِلُ كَلْبِي فَيَأْخُذُ صَيْدًا ، وَلا أَجِدُ مَا أَذْبَحُ بِهِ إِلا الْمَرْوَةَ أَوِ الْعَصَا؟ قَالَ: " أَمِرَّ الدَّمَ بِمَا شِئْتَ ، وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ " .
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے والد صلہ رحمی کرتے تھے وہ یہ عمل کیا کرتے تھے اور وہ عمل کیا کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے والد ایک چیز کے طلب گار تھے وہ انہیں مل گئی، (راوی کہتے ہیں) یعنی شہرت۔ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں آپ سے ایسے کھانے کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا ہوں جسے میں حرج کے طور پر ترک کر دیتا ہوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایسی کسی چیز کو نہ چھوڑو جس میں نصرانیت نے شمولیت اختیار کی ہو۔ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کی: میں اپنے کتے کو چھوڑتا ہوں پھر وہ ایک شکار کو پکڑ لیتا ہے مجھے کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جس کے ذریعے میں اسے ذبح کروں۔ صرف کانہ یا لاٹھی ملتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جس چیز کے ذریعے چاہو خون بہا دو اوراللہ تعالیٰ کا نام لے لو (اور پھر شکار کو کھا لو)