کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ کافر اگر دنیا میں بہت سے نیک اعمال کرے تو بھی آخرت میں ان سے اسے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 331
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا سَأَلَتْهُ عَنْ قَوْلِهِ : يَوْمَ تُبَدَّلُ الأَرْضُ غَيْرَ الأَرْضِ وَالسَّمَوَاتُ ، وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ سورة إبراهيم آية 48 فَأَيْنَ يَكُونُ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ ؟ فقَالَ : " عَلَى الصِّرَاطِ " ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنُ جُدْعَانَ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَصِلُ الرَّحِمَ ، وَيُطْعِمُ الْمِسْكِينَ ، فَهَلْ ذَاكَ نَافِعُهُ ؟ قَالَ : " لا يَنْفَعُهُ لَمْ يَقُلْ يَوْمًا : رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتی ہیں، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سےاللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا۔ ” جب زمین کو دوسری زمین میں اور آسمانوں کو بھی تبدیل کر دیا جائے، تو یہ سب، ایک اور زبردستاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جھک جائیں گے۔ “ تو اس وقت لوگ کہاں ہوں گے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ پل صراط پر ہوں گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ابن جدعان زمانہ جاہلیت میں صلہ رحمی کرتا تھا لوگوں کو کھانا کھلاتا تھا، تو کیا یہ چیز اسے فائدہ دے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یا اسے فائدہ نہیں دے گی، کیونکہ اس نے کبھی بھی یہ نہیں کہا: اے میرے پروردگار! میرے گناہوں کی مغفرت کر دینا۔