کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ غیر مسلم کے نیک اعمال اگرچہ اچھے ہوں، آخرت میں اس کے لیے فائدہ مند نہیں ہوں گے اگر وہ دنیا میں کیے گئے ہوں۔
حدیث نمبر: 330
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ ابْنَ جُدْعَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ كَانَ يَقْرِي الضَّيْفَ ، وَيُحْسِنُ الْجِوَارَ ، وَيَصِلُ الرَّحِمَ ، فَهَلْ يَنْفَعُهُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " لا ، إِنَّهُ لَمْ يَقُلْ يَوْمًا قَطُّ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی:۔ ابن جدعان زمانہ جاہلیت مہمان نوازی کرتا پڑوسیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتا تھا۔ صلہ رحمی کرتا تھا، تو کیا اس کو (ان اچھائیوں کا) کوئی فائدہ ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں! کیونکہ اس نے کبھی بھی یہ نہیں کہا:۔ اے اللہ! قیامت کے دن میرے گناہوں کی مغفرت کر دے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 330
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (249 و 2927): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، على شرط مسلم، القواريري: هو عبيد الله بن عمر. وأبو سفيان: هو طلحة بن نافع، احتج به مسلم، وروى له البخاري مقروناً، وروى له الأعمش أحاديث مستقيمة، وباقي السند على شرطهما.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 331»