کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اگر غیر مسلم نیک اعمال کریں تو ان پر خیر کا نام بولا جا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 329
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ أُمُورًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ : مِنْ صِلَةٍ وَعَتَاقَةٍ وَصَدَقَةٍ ، فَهَلْ فِيهَا أَجْرٌ ؟ فقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَسْلَمْتَ عَلَى مَا سَلَفَ لَكَ مِنْ أَجْرٍ " .
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ان امور کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو میں نے زمانہ جاہلیت میں نیکی کے طور پر کئے تھے جن کا تعلق صلہ رحمی، غلام آزاد کرنے اور صدقہ کرنے سے ہے کیا ان کا اجر ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے پہلے جو عمل کئے تھے۔ ان کے اجر کے طور پر ہی اسلام قبول کیا ہے۔