کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس بات کی خبر کا ذکر کہ بندے پر لازم ہے کہ نوافل کے ساتھ اپنی جان اور اہلِ خانہ کا بھی حق ادا کرے۔
حدیث نمبر: 320
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخَى بَيْنَ سَلْمَانَ ، وَأَبَى الدَّرْدَاءِ ، قَالَ فَجَاءَ سَلْمَانُ يَزُورُ أَبَا الدَّرْدَاءِ ، فَرَأَى أُمَّ الدَّرْدَاءِ مُتَبَتِّلَةً ، فقَالَ : مَا شَأْنُكِ ؟ قَالَتْ : إِنَّ أَخَاكَ لَيْسَتْ لَهُ حَاجَةٌ فِي الدُّنْيَا فَلَمَّا جَاءَ أَبُو الدَّرْدَاءِ ، رَحَّبَ بِهِ سُلَيْمَانُ ، وَقَرَّبَ إِلَيْهِ طَعَامًا ، فقَالَ لَهُ سَلْمَانُ : اطْعَمْ ، قَالَ : إِنِّي صَائِمٌ ، قَالَ : أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ إِلا طَعِمْتَ ، فَإِنِّي مَا أَنَا بِآكِلٍ حَتَّى تَأْكُلَ ، قَالَ : فَأَكَلَ مَعَهُ وَبَاتَ عِنْدَهُ فَلَمَّا كَانَ مِنَ اللَّيْلِ ، قَامَ أَبُو الدَّرْدَاءِ فَحَبَسَهُ سَلْمَانُ ، ثُمَّ قَالَ : يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ إِنَّ لِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، وَلأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، وَلِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، أَعْطِ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ ، صُمْ وَأَفْطِرْ ، وَقُمْ وَنَمْ ، وَائْتِ أَهْلَكَ ، فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الصُّبْحِ ، قَالَ : قُمِ الآنَ ، فَقَامَا فَصَلَّيَا ، ثُمَّ خَرَجَا إِلَى الصَّلاةِ ، فَلَمَّا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَامَ إِلَيْهِ أَبُو الدَّرْدَاءِ ، فَأَخْبَرَهُ بِمَا ، قَالَ سَلْمَانُ ، فقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَ مَا قَالَ سَلْمَانُ " .
عون بن ابوجحیفہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کر دیا۔ ایک دن سیدنا سلمان فارس رضی اللہ عنہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ملنے کے لئے آئے، تو سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا کو بکھرے ہوئے حلیے میں دیکھا تو دریافت کیا: آپ کو کیا ہوا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: آپ کے بھائی کو دنیا کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ جب سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ آئے، تو سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کو انہوں نے خوش آمدید کہا: اور ان کے سامنے کھانا رکھ دیا، تو سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ کھائیے۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ہم نے، تو روزہ رکھا ہوا ہے۔ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ کھائیں، کیونکہ میں بھی اس وقت تک نہیں کھاؤں گا، جب تک آپ نہیں کھائیں گے۔ راوی بیان کرتے ہیں، تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ کھانا کھا لیا پھر وہ رات کو ان کے پاس ہی ٹھہر گئے جب رات کا وقت ہوا، تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ اٹھ کر نوافل ادا کرنے لگے، تو سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے انہیں روک دیا، انہوں نے فرمایا: اے ابودرداء! تمہارے پروردگار کا بھی تم پر حق ہے تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے۔ تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے۔ تم ہر حق دار کو اس کا حق دو تم نفلی روزہ رکھو اور چھوڑ بھی دیا کرو تم نوافل ادا کیا بھی کرو اور سو بھی جایا کرو اور تم اپنی بیوی کے پاس بھی جایا کرو۔ جب صبح صادق کا وقت قریب آیا، تو سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اب آپ اٹھ جائیں پھر یہ دونوں حضرات اٹھ کھڑے ہوئے ان دونوں نے نوافل ادا کئے اور نماز ادا کرنے کے لئے چلے گئے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کی بات کے بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے وہی بات کہی جو سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے کہی تھی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 320
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني تنبيه!! هذا الحديث تكرر في «طبعة باوزير» في موضعين الموضع الأول (320) وقال عنه الشيخ: صحيح - «مختصر البخاري» (929): خ. الموضع الثاني (360/*) وقال عنه الشيخ: صحيح - مكرر (320). أما في «طبعة المؤسسة» فلم يرد إلا في هذا الموضع لكن الحديث مكرر ولا فرق بينهما أبدا لا في الإسناد ولا في المتن. - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين، أبو خيثمة: هو زهير بن حرب بن شداد الحرشي النسائي، وأبو عُميس اسمه عتبة بن عبد الله وهو أخو عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي، وأبو جحيفة: هو وهب بن عبد الله السُّوائي.