کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس بات کی خبر کا ذکر کہ بندے پر لازم ہے کہ وہ فرائض ادا کرنے کے ساتھ نوافل بھی بجا لائے اور اس کے بعد اپنی جان اور اہلِ خانہ کا بھی حق ادا کرے۔
حدیث نمبر: 316
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْخَطَّابِ الْبَلَدِيُّ الزَّاهِدُ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَابِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : دَخَلَتِ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ عَلَى نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْنَهَا سَيِّئَةَ الْهَيْئَةِ ، فَقُلْنَ : مَا لَكِ ، مَا فِي قُرَيْشٍ رَجُلٌ أَغْنَى مِنْ بَعْلِكِ ، قَالَتْ : مَا لَنَا مِنْهُ شَيْءٌ ؟ أَمَّا نَهَارُهُ فَصَائِمٌ ، وَأَمَّا لَيْلُهُ فَقَائِمٌ ، قَالَ : فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَ ذَلِكَ لَهُ ، فَلَقِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : " يَا عُثْمَانُ ، أَمَا لَكَ فِي أُسْوَةٍ " ؟ قَالَ : وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ؟ قَالَ : " أَمَّا أَنْتَ فَتَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ ، وَإِنَّ لأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، وَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، صَلِّ وَنَمْ ، وَصُمْ وَأَفْطِرْ " ، قَالَ : فَأَتَتْهُمُ الْمَرْأَةُ بَعْدَ ذَلِكَ عَطِرَةً كَأَنَّهَا عَرُوسٌ ، فَقُلْنَ لَهَا : مَهْ ، قَالَتْ : أَصَابَنَا مَا أَصَابَ النَّاسُ .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کی خدمت میں حاضر ہوئیں، تو ان ازواج نے دیکھا کہ ان کی ظاہری حالت ٹھیک نہیں ہے، تو ازواج نے دریافت کیا: تمہیں کیا ہوا ہے؟ قریش میں تمہارے شوہر سے زیادہ خوشحال اور کوئی شخص نہیں ہے، تو اس خاتون نے جواب دیا: ہمارا ان کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے۔ وہ دن کے وقت روزہ رکھ لیتے ہیں اور رات کے وقت نفل پڑھتے رہتے ہیں سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے، تو ازواج مطہرات نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ سے ہوئی، تو آپ نے فرمایا۔ اے عثمان! کیا تمہارے لئے میرے طریقے میں نمونہ نہیں ہے؟ انہوں نے دریافت کیا۔ کیا ہوا؟ یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم رات بھر نفل پڑھتے رہتے ہو، اور دن کے وقت نفلی روزہ رکھ لیتے ہو؟ تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے۔ تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے تم (رات کے وقت) نفل نماز پڑھ بھی لیا کرو اور سو بھی جایا کرو اور دن کے وقت نفل روزہ رکھ بھی لیا کرو اور نہ بھی رکھا کرو۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس کے بعد ان کی اہلیہ ازواج مطہرات کے پاس آئیں، تو انہوں نے عطر لگایا ہوا تھا یوں جیسے وہ دلہن ہوں۔ ازواج مطہرات نے ان سے کہا: کیا ہوا؟ تو انہوں نے بتایا: ہمیں بھی وہی چیز ملی ہے، جو لوگوں کو ملی ہے۔