کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس بات کی خبر کا ذکر کہ بندے پر لازم ہے کہ وہ اللہ جل وعلا کی نعمتوں پر اپنے اعضاء کے ذریعے شکر ادا کرے، خاص طور پر جب یہ نعمت کسی آزمائش کے بعد عطا ہو۔
حدیث نمبر: 314
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ ثَلاثَةً فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ أَبْرَصَ وَأَقْرَعَ وَأَعْمَى ، فَأَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَبْتَلِيَهُمْ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ مَلَكًا ، فَأَتَى الأَبْرَصَ ، فقَالَ : أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ قَالَ : لَوْنٌ حَسَنٌ ، وَجِلْدٌ حَسَنٌ ، قَالَ : فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ قَالَ : الإِبِلُ ، فَمَسَحَهُ ، فَذَهَبَ عَنْهُ ، قَالَ : وَأُعْطِيَ نَاقَةً عُشَرَاءَ ، فقَالَ : بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِيهَا ، قَالَ : وَأَتَى الأَقْرَعَ ، فقَالَ : أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ قَالَ : شَعْرٌ حَسَنٌ ، وَيَذْهَبُ عَنِّي هَذَا الَّذِي قَدْ قَذِرَنِي النَّاسُ ، قَالَ : فَمَسَحَهُ فَذَهَبَ عَنْهُ ، وَأُعْطِيَ شَعْرًا حَسَنًا ، قَالَ : فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ قَالَ : الْبَقَرُ ، قَالَ : فَأُعْطِيَ بَقَرَةً حَافِلَةً ، قَالَ : بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِيهَا ، قَالَ : وَأَتَى الأَعْمَى ، فقَالَ : أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ قَالَ : أَنْ يَرُدَّ اللَّهُ إِلَيَّ بَصَرِي فَأُبْصِرَ بِهِ النَّاسَ ، فَمَسَحَهُ فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيْهِ بَصَرَهُ ، قَالَ : فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ قَالَ : الْغَنَمُ ، قَالَ : فَأُعْطِيَ شَاةً وَالِدًا ، وَأُنْتِجَ هَذَانِ ، وَوَلَّدَ هَذَا ، فَكَانَ لِهَذَا وَادٍ مِنَ الإِبِلِ ، وَلِهَذَا وَادٍ مِنَ الْبَقَرِ ، وَلِهَذَا وَادٍ مِنَ الْغَنَمِ ، قَالَ : ثُمَّ أَتَى الأَبْرَصَ فِي صُورَتِهِ وَهَيْئَتِهِ ، فقَالَ : رَجُلٌ مِسْكِينٌ وَابْنُ سَبِيلٍ انْقَطَعَتْ بِيَ الْحِبَالُ فِي سَفَرِي ، فَلا بَلاغَ بِيَ الْيَوْمَ إِلا بِاللَّهِ ثُمَّ بِكَ ، أَسْأَلُكَ بِالَّذِي أَعْطَاكَ اللَّوْنَ الْحَسَنَ ، وَالْجِلْدَ الْحَسَنَ وَالْمَالَ ، بَعِيرًا أَتَبَلَّغُ بِهِ فِي سَفَرِي ، فقَالَ : الْحُقُوقُ كَثِيرَةٌ ، فقَالَ : كَأَنِّي أَعْرِفُكَ ، أَلَمْ تَكُنْ أَبْرَصَ يَقْذَرُكَ النَّاسُ ، فَقِيرًا فَأَعْطَاكَ اللَّهُ الْمَالَ ؟ فقَالَ : إِنَّمَا وَرِثْتُ هَذَا الْمَالَ كَابِرًا عَنْ كَابِرٍ ، فقَالَ : إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا ، فَصَيَّرَكَ اللَّهُ إِلَى مَا كُنْتَ ، قَالَ : ثُمَّ أَتَى الأَقْرَعَ فِي صُورَتِهِ ، فقَالَ لَهُ مِثْلَ مَا ، قَالَ لِهَذَا ، فَرَدَّ عَلَيْهِ مِثْلَ مَا رَدَّ هَذَا ، فقَالَ : إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا ، فَصَيَّرَكَ اللَّهُ إِلَى مَا كُنْتَ وَأَتَى الأَعْمَى فِي صُورَتِهِ وَهَيْئَتِهِ ، فقَالَ : رَجُلٌ مِسْكِينٌ وَابْنُ سَبِيلٍ انْقَطَعَتْ بِيَ الْحِبَالُ فِي سَفَرِي ! ، فقَالَ : قَدْ كُنْتُ أَعْمَى فَرَدَّ اللَّهُ عَلَيَّ بَصَرِي ، فَخُذْ مَا شِئْتَ ، وَدَعْ مَا شِئْتَ ، فَوَاللَّهِ لا أَجْهَدُكَ الْيَوْمَ شَيْئًا أَخَذْتَهُ لِلَّهِ ، فقَالَ : أَمْسِكْ مَالَكَ ، فَإِنَّمَا ابْتُلِيتُمْ فَقَدْ رُضِيَ عَنْكَ ، وَسُخِطَ عَلَى صَاحِبَيْكَ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” بنی اسرائیل میں تین آدمی تھے۔ ایک پھلبہری کا مریض تھا ایک لنگڑا تھا، اور ایک اندھا تھا۔اللہ تعالیٰ نے انہیں آزمائش میں مبتلا کرنے کا ارادہ کیا، تو ان کی طرف ایک فرشتے کو بھیجا وہ پھلبہری کے مریض کے پاس آیا اور دریافت کیا: تمہارے نزدیک کون سی چیز زیادہ پسندیدہ ہے۔ اس نے جواب دیا: صاف رنگ اور صاف جلد ۔“ فرشتے نے دریافت کیا: تمہارے نزدیک کون سا مال زیادہ پسندیدہ ہو گا؟ اس نے جواب دیا: اونٹ۔ فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا تو اس کی بیماری ختم ہو گئی پھر اس شخص کو دس ماہ کی حاملہ اونٹنی دی گئی فرشتے نے کہا: اللہ تمہارے لئے اس میں برکت عطا کرے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر وہ فرشتہ گنجے کے پاس آیا اور کہا: تمہیں کون سی چیز پسندیدہ ہے؟ اس نے جواب دیا: اچھے بال اور مجھ سے یہ برائی ختم ہو جائے، جس کی وجہ سے لوگ مجھے برا سمجھتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا تو اس کی بیماری ختم ہو گئی اور اسے اچھے بال عطا کر دیئے گئے۔
فرشتے نے دریافت کیا: تمہارے نزدیک کون سا مال زیادہ پسندیدہ ہے؟ اس نے جواب دیا: گائے، تو اسے ایک حاملہ گائے دے دی گئی۔ فرشتے نے کہا:اللہ تعالیٰ تمہارے لئے اس میں برکت پیدا کرے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر وہ فرشتہ نابینا شخص کے پاس آیا اور دریافت کیا: تمہارے نزدیک کون سی چیز زیادہ محبوب ہے؟ اس نے جواب دیا: یہ کہاللہ تعالیٰ مجھے میری بصارت واپس کر دے تاکہ میں اس کے ذریعے لوگوں کو دیکھ سکوں فرشتے نے اس شخص پر ہاتھ پھیرا تواللہ تعالیٰ نے اس کی بینائی لوٹا دی۔
فرشتے نے دریافت کیا: تمہارے نزدیک کون سا مال زیادہ پسندیدہ ہے؟ اس نے جواب دیا: بکریاں، تو اس شخص کو ایک حاملہ بکری دے دی گئی۔
ان تینوں کے ہاں جانوروں کے بچے پیدا ہوئے، تو اس شخص کے پاس بہت سے اونٹ ہو گئے۔ اس شخص کے پاس بہت سی گائیں ہو گئیں اور اس کے پاس بہت سی بکریاں ہو گئیں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر وہ فرشتہ اپنی مخصوص صورت میں اور ہیئت میں پھلبہری کے (سابقہ) مریض کے پاس آیا اور کہا: میں ایک غریب اور مسافر شخص ہوں سفر کے دوران میرا زاد سفر ختم ہو گیا ہے۔ اباللہ تعالیٰ کے علاوہ اور تمہارے علاوہ میرا کوئی آسرا نہیں ہے میں تم سے اس ذات کے وسیلے سے مانگتا ہوں جس نے تمہیں خوبصورت رنگ اور خوبصورت جلد اور مال عطا کیا ہے۔ تم مجھے ایک اونٹ دے دو تاکہ میں اس کے ذریعے اپنا سفر جاری رکھ سکوں۔ اس شخص نے کہا: میرے اور بہت سے اخراجات ہیں۔ (میں تمہاری مدد نہیں کر سکتا)
فرشتے نے کہا: میں شاید تمہیں جانتا ہوں کیا تم پھلبہری کے مریض نہیں تھے؟ لوگ تمہیں برا سمجھتے تھے اور تم غریب بھی تھے، تواللہ تعالیٰ نے تمہیں مال عطا کر دیا، تو اس شخص نے کہا: مجھے یہ مال اپنے بڑوں کی طرف سے وراثت میں ملا ہے۔ تو فرشتے نے کہا: اگر تم جھوٹ بول رہے ہو، تواللہ تعالیٰ تمہیں پہلی صورتحال کی طرف واپس کر دے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر وہ فرشتہ گنجے شخص کے پاس اسی شکل میں آیا اور اس سے بھی وہی بات کہی جو اس سے کہی تھی، تو اس نے بھی وہی جواب دیا جو اس نے دیا تھا، تو فرشتے نے کہا: اگر تم جھوٹ بول رہے ہو، تواللہ تعالیٰ تمہیں پہلی صورتحال کا شکار کر دے۔
پھر وہ فرشتہ اسی صورت اور اسی ہیئت میں (سابقہ) نابینا شخص کے پاس آیا اور بولا: میں ایک غریب اور مسافر شخص ہوں میرا زاد سفر ختم ہو گیا ہے، تو اس شخص نے کہا: میں پہلے نابینا تھا، تواللہ تعالیٰ نے مجھے بصارت عطا کی اب تم جو چاہو حاصل کر لو اور جو چاہو چھوڑ دو اللہ کی قسم! آج تم اللہ کے نام پر جو کچھ بھی لو گے میں اس معاملے میں تمہارے ساتھ کوئی سختی نہیں کروں گا، تو فرشتے نے کہا: تم اپنا مال اپنے پاس رکھو اور تم لوگوں کو آزمائش میں مبتلا کیا گیا ہے، تو تم پر رضامندی ہو گئی اور تمہارے دو ساتھیوں پر ناراضگی ہو گئی۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر وہ فرشتہ گنجے کے پاس آیا اور کہا: تمہیں کون سی چیز پسندیدہ ہے؟ اس نے جواب دیا: اچھے بال اور مجھ سے یہ برائی ختم ہو جائے، جس کی وجہ سے لوگ مجھے برا سمجھتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا تو اس کی بیماری ختم ہو گئی اور اسے اچھے بال عطا کر دیئے گئے۔
فرشتے نے دریافت کیا: تمہارے نزدیک کون سا مال زیادہ پسندیدہ ہے؟ اس نے جواب دیا: گائے، تو اسے ایک حاملہ گائے دے دی گئی۔ فرشتے نے کہا:اللہ تعالیٰ تمہارے لئے اس میں برکت پیدا کرے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر وہ فرشتہ نابینا شخص کے پاس آیا اور دریافت کیا: تمہارے نزدیک کون سی چیز زیادہ محبوب ہے؟ اس نے جواب دیا: یہ کہاللہ تعالیٰ مجھے میری بصارت واپس کر دے تاکہ میں اس کے ذریعے لوگوں کو دیکھ سکوں فرشتے نے اس شخص پر ہاتھ پھیرا تواللہ تعالیٰ نے اس کی بینائی لوٹا دی۔
فرشتے نے دریافت کیا: تمہارے نزدیک کون سا مال زیادہ پسندیدہ ہے؟ اس نے جواب دیا: بکریاں، تو اس شخص کو ایک حاملہ بکری دے دی گئی۔
ان تینوں کے ہاں جانوروں کے بچے پیدا ہوئے، تو اس شخص کے پاس بہت سے اونٹ ہو گئے۔ اس شخص کے پاس بہت سی گائیں ہو گئیں اور اس کے پاس بہت سی بکریاں ہو گئیں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر وہ فرشتہ اپنی مخصوص صورت میں اور ہیئت میں پھلبہری کے (سابقہ) مریض کے پاس آیا اور کہا: میں ایک غریب اور مسافر شخص ہوں سفر کے دوران میرا زاد سفر ختم ہو گیا ہے۔ اباللہ تعالیٰ کے علاوہ اور تمہارے علاوہ میرا کوئی آسرا نہیں ہے میں تم سے اس ذات کے وسیلے سے مانگتا ہوں جس نے تمہیں خوبصورت رنگ اور خوبصورت جلد اور مال عطا کیا ہے۔ تم مجھے ایک اونٹ دے دو تاکہ میں اس کے ذریعے اپنا سفر جاری رکھ سکوں۔ اس شخص نے کہا: میرے اور بہت سے اخراجات ہیں۔ (میں تمہاری مدد نہیں کر سکتا)
فرشتے نے کہا: میں شاید تمہیں جانتا ہوں کیا تم پھلبہری کے مریض نہیں تھے؟ لوگ تمہیں برا سمجھتے تھے اور تم غریب بھی تھے، تواللہ تعالیٰ نے تمہیں مال عطا کر دیا، تو اس شخص نے کہا: مجھے یہ مال اپنے بڑوں کی طرف سے وراثت میں ملا ہے۔ تو فرشتے نے کہا: اگر تم جھوٹ بول رہے ہو، تواللہ تعالیٰ تمہیں پہلی صورتحال کی طرف واپس کر دے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر وہ فرشتہ گنجے شخص کے پاس اسی شکل میں آیا اور اس سے بھی وہی بات کہی جو اس سے کہی تھی، تو اس نے بھی وہی جواب دیا جو اس نے دیا تھا، تو فرشتے نے کہا: اگر تم جھوٹ بول رہے ہو، تواللہ تعالیٰ تمہیں پہلی صورتحال کا شکار کر دے۔
پھر وہ فرشتہ اسی صورت اور اسی ہیئت میں (سابقہ) نابینا شخص کے پاس آیا اور بولا: میں ایک غریب اور مسافر شخص ہوں میرا زاد سفر ختم ہو گیا ہے، تو اس شخص نے کہا: میں پہلے نابینا تھا، تواللہ تعالیٰ نے مجھے بصارت عطا کی اب تم جو چاہو حاصل کر لو اور جو چاہو چھوڑ دو اللہ کی قسم! آج تم اللہ کے نام پر جو کچھ بھی لو گے میں اس معاملے میں تمہارے ساتھ کوئی سختی نہیں کروں گا، تو فرشتے نے کہا: تم اپنا مال اپنے پاس رکھو اور تم لوگوں کو آزمائش میں مبتلا کیا گیا ہے، تو تم پر رضامندی ہو گئی اور تمہارے دو ساتھیوں پر ناراضگی ہو گئی۔