کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس بات کا ذکر کہ بندے کے لیے مستحب ہے کہ وہ اللہ جل وعلا کا شکر صرف زبان سے نہیں بلکہ اپنے اعضاء کے ذریعے طاعات انجام دے کر ادا کرے۔
حدیث نمبر: 311
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلاقَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، يَقُولُ : قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ ، فَقِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَفْعَلُ هَذَا وَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ وَمَا تَأَخَّرَ ؟ قَالَ : " أَفَلا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا " .
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت نوافل ادا کرتے تھے اور اتنا طویل قیام کرتے تھے: آپ کے دونوں پاؤں ورم آلود ہو جاتے تھے آپ کی خدمت میں عرض کی گئی: یا رسول اللہ! کیا آپ ایسا کرتے ہیں؟ جبکہ آپ کے گزشتہ اور آئندہ (ذنب) کی مغفرت ہو چکی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 311
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «مختصر الشمائل» (221): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، إبراهيم بن بشار - وهو الرمادي- أبو إسحاق البصري حافظ روى له أبو داود والنسائي، وهو متابع، ومن فوقه ثقات من رجال الشيخين.